کابل میں تازہ حملہ اور کبھی ختم نہ ہونے والی خانہ جنگی

 افغانستان کے انٹیلی جنس اداروں نے اکتیس مئی 2017 کو ہونے والی دہشتگردی کے فوراً بعد اپنا موقف بیان کیا ۔ انھوں نے بتایا کہ افغان دارالحکومت میں کوئی بڑا دہشتگرد حملہ پہلے سے متوقع تھا ۔ بعض ذرائع کے مطابق امریکی اخبار ’’ فارن پالیسی‘‘ نے انکشاف کیا کہ اس منصوبے کی مکمل معلومات پہلے سے مل چکی تھیں یہاں تک کہ 21 مئی کو ہی افغان انٹیلی جنس فورسز کو عین اس جگہ کا پتا معلوم ہو چکا تھا جہاں یہ سانحہ ہوا ۔ مگر اس کے باوجود افغان فورسز اس سانحے کی پیش بندی نہ کر پائیں ۔ اس سے افغان فورسز اور حکام کی رِٹ اور دعووں کے بارے میں بجا طور پر سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ افغان حکومت اور فورسز نے داعش کی موجودگی کو رد کر دیا اور حقانی نیٹ ورک کو اس حملے کے موردِ الزام ٹھہرایا ۔ کسے معلوم نہیں کہ حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا ایک گروہ ہے جس پر افغان حکام اکثر واقعے کا الزام لگاتے آئے ہیں ۔
باغیوں کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات سے انکار 
افغان حکام نے صرف اس مفروضے کی بنا پر یہ الزامات لگائے کہ حقانی نیٹ ورک ماضی میں اس قسم کی کاروائیوں میں ملوث رہا ہے ۔ حالانکہ بغیر کسی تحقیق ایسے الزامات کو قابلِ رشک قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ اور مبصرین کے مطابق اسے مضحکہ خیز حد تک غیر مصدقہ کہا جانا چاہیے کیونکہ دھماکے کے فوراً بعد یہ الزامات لگا دیئے گئے ۔
ایسے میں ہر ذی شعور کے ذہن میں افغان حکومت کے اس موقف کی بابت سوالات اٹھنا فطری بات ہے ۔ بغیر یہ تحقیق کیے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے ، حقانی نیٹ ورک کو موردِ الزام ٹھہرانا عجیب سی بات ہے ۔
واضح رہے کہ سراج الدین حقانی ، حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں جو کہ افغان طالبان کا ایک دھڑا ہے ۔ محض اس مفروضے کو بنیاد بناتے ہوئے افغان حکام نے طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے ۔ حالانکہ کسے علم نہیں کہ امن حاصل کرنے کے لئے مذاکرات نا گزیر ہیں چاہے وہ افغانستان کی سطح پر ہوں یا علاقائی سطح پر ۔
لیکن افغان حکومت کے تازہ الزامات کے بعد ، کم از کم فی الحال مذاکرات ممکن نہیں ( دوسری جانب ایران ، پاکستان ، چین اور روس اس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ کی یہ پالیسی کہ افغانستان کے مسئلہ کا واحد حل طاقت ہے ، بالکل غلط تھی ) ۔
یاد رہے کہ چند روز قبل افغان صدر ’’ اشرف غنی ‘‘ نے جواباً سخت رویہ اپناتے ہوئے گیارہ طالبان قیدیوں کی سزائے موت پر دستخط کیے ۔ اورپھر عمل اور ردعمل کے قانون کے مطابق طالبان نے کابل میں ایک دہشتگردانہ حملے کی دھمکی دی ۔ اور یوں گذشتہ چار عشروں سے جاری افغان خانہ جنگی کا سلسلہ نہ صرف تاحال جاری ہے بلکہ اس میں شدت آ گئی ہے۔ ؤ
پاکستان ایک قربانی کا بکرا 
مبصرین کے مطابق حقانی نیٹ پر الزام لگا کر ہر برائی کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر در حقیقت افغان حکام قابلِ مذمت طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ ٹھوس شواہد کے بغیر اسلام آباد پر الزام لگانا بالکل بھی مستحسن فعل نہیں گو کہ اس سے سیاسی طور پر افغان حکومت کو شاید کچھ فوائد حاصل ہو جائیں ۔کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ کسی دوسرے ملک پر الزامات لگانا افغان حکومت کی بری گورننس ، کرپشن ، نا اہلیوں اور اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکامیوں کو ثابت کرتا ہے ۔ گویا پاکستان کو افغانستان کے تمام مسائل کے لئے موردِ الزام ٹھہرا کر قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ دوسری جانب افغانستان میں امن لانے میں امریکی نا اہلیوں کو بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
مزید ستم ظریفی یہ کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان تو خود دہشتگردی سے انسانی اور معاشرتی حوالے سے بری متاثر ہے ۔ تبھی تو پاک وزارتِ خارجہ کے ترجمان ’’ نفیس ذکریا ‘‘ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ پاکستان کا اپنا مفاد اس بات کا متقاضی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور اس ضمن میں پاکستان ایک لمبے عرصے سے کوشاں ہے اور اس حوالے سے پاک افواج اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔
مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ دہلی کی شہہ کی پر کابل حکام ایک لمبے عرصے سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں یہ دونوں اتحادی کابل اور دہلی پاکستان کو ہر حوالے سے غیر مستحکم کرنے کی دیرینہ روش پر قائم ہیں ۔ ایسے میں کس بنیاد پر یہ امید کی جائے کہ اس مذموم روش پر قائم رہتے ہوئے افغان حکام افغانستان میں ا12-Septمن لا سکتے ہیں ۔
تحریر: ڈیڈیئر شودت:فرانس کے صحافتی اور تحقیقی حلقوں میں یہ مغربی مصنف ایک معتبر نام کے حامل ہیں۔ وہ افغانستان، پاکستان، ایران اوروسطی ایشیائی امور کے ماہر ہیں اور ’’سینٹر فار انیلے سس آف فارن افیئرز‘‘ میں ڈائریکٹر ایڈیٹنگ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اوقات میں ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ساوتھ ایشین سٹڈیز سنگا پور‘‘، ’’پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز‘‘، ’’فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹر نیشنل ریلیشنز‘‘ اور ’’یالے یونیورسٹی‘‘ میں تحقیق و تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہے اور ’’اپری‘‘ (اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) سے ’’نان ریزیڈنٹ سکالر‘‘ کے طور پر وابستہ ہیں۔ ترجمعہ: اصغر علی شاد
تیئس جولائی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔
( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top