! ..مودی ، ٹرمپ کے یہ رنگ ڈھنگ

امریکی صدر ’’ ٹرمپ‘‘ اور مودی نے گذشتہ روز اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں جو زہر اگلا ، اس کے پس منظر سے بھلا کون آگاہ نہیں ۔ تبھی تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ساری دنیا کوکرنا چاہیے ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ یوں تو بھارتی حکمران اپنے قیام کے روز اول سے ہی پاکستان اور چین کے خلاف اعلانیہ معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی اس منفی ذہنیت کا مظاہرہ آئے روز کسی نہ کسی شکل میں کرتے رہتے ہیں ۔ تبھی تو ایک طرف بھارت نے چین کے خلاف سرحدی خلاف ورزیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور تو اسی کے ساتھ ساتھ چین کے علاقے جنوبی تبت ( مقبوضہ ) کے کافی علاقے پر کشمیر کی مانند نا جائز تسلط جما رکھا ہے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز بھارت کی جانب سے چینی حدود میں در اندازی کی کوشش کی گئی جس کے جواب میں چین نے بھارت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اس کے تین سو سے زیادہ یاتریوں کو چین میں داخلے سے روک دیا۔
علاوہ ازیں پاک وزارتِ خارجہ کے ترجمان ’’ نفیس ذکریا ‘‘ نے کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے طرزعمل سے جنوبی ایشیاء کی پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے جس سے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی اہم وجوہات کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔انہوں نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے کہا کہ پاکستان کشمیر کے نصب العین کی حقانیت پر پختہ یقین رکھتا ہے اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی پرامن جدوجہد کی حمایت کرتا ہے جس کا وعدہ عالمی برادری نے اقوم متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کئی بار کیا۔ پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیریوں کی پر امن جدوجہد کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑنے کی کوئی بھی کوشش اور حق خودارادیت کی حمایت کرنے والے افراد کو دہشتگرد قرار دینا قطعی ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان نے یقیناًبجا طور پر کہا ہے کہ ’’ را، این ڈی ایس اور دیگر پاک مخالف عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر مخصوص رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور قومی سلامتی کے ادارے اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس سارے معاملے کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے برملا اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ضمن جو مثبت کردارنبھایا ، وہ ایسا کھلا راز ہے کہ جس کی حقانیت کی بابت شاید کوئی بھی باشعور امریکی حلقہ چنداں انکار نہیں کر سکتا ۔ اگرچہ اس معاملے کا یہ ایک الگ پہلو ہے کہ جواب میں واشنگٹن نے جو کچھ کیا اس کے لئے شاید احسان فراموشی کے الفاظ بھی بہت ہلکے ہیں ۔ اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ شاید ایسی ہی صورتحال کی بابت ’’ مومن خان مومن‘‘ نے کہا تھا کہ
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے باوفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو !

یکم جولائی کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پا لیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top