!عید آزادی اور بھارتی کارستانیاں ۔ ۔ ۔

پاکستان کے خلاف دہلی کی چال بازیاں ہر سطح پر جاری ہیں اور اس میں ٹرمپ انتظامیہ بھی اپنی بساط سے بڑھ کر دہلی کی معاونت کر رہی ہے ۔ تبھی تو اٹھائیس جولائی کو کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر 42 ٹن تازہ پھل پہنچایا گیا اور شیڈول کے مطابق اسی دن اسے بھیجا جانا تھا مگر دہلی کی حرکتوں کے نتیجے میں پھل کو بھیجنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی اور پھلوں کی بڑی مقدار خراب ہو گئی ۔
مبصرین کے مطابق در اصل امریکی اور بھارتی حکام کی خواہش اور کوشش ہے کہ افغانستان کی نام نہاد معاونت کے نام پر افغانستان میں اپنے پنجے مزید گاڑے جائیں ۔ مگر افغان حکومت کی جانب سے تاحال قدرے مزاحمت کا سامنا ہے ۔
دوسری جانب 14 اگست کو انشاء اللہ وطنِ عزیز کے قیام کے ستر سال پورے ہو جائیں گے ۔ اپنے آپ میں یہ یقیناًایک اتنی اہم بات ہے جس پر ربِ کریم کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ اس بابت کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس مملکتِ خداداد کا قیام ایسا معجزہ ہے جس کی مثال قوموں کی تاریخ میں ملنا اگر نا ممکن نہیں تو خاصا محال ہے ۔
اس حوالے سے یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو اس نئی ریاست میں نہ تو ریاستی بینک موجود تھا اور نہ ہی زندگی کے کسی بھی شعبے میں خاطر خواہ اہلیت کا حامل پیشہ وارانہ ڈھانچا ۔یاد رہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان 1948 میں وجود میں آیا ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ برٹش انڈیا میں نہ صرف ریزرو بینک آف انڈیا مستحکم بنیادوں پر قائم تھا بلکہ دنیا بھر کے اکثر ممالک میں سفارت کاری کا شعبہ بھی موجود تھا ۔ علاوہ ازیں انڈیا کے حصہ میں تیس اسلحہ ساز فیکٹریاں آئیں ۔ ایسے میں قائدِ اعظم اور لیاقت علی خان کے ساتھ نوزائیدہ پاکستان کی سول اور ملٹری بیورو کریسی نے بھی انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس نئے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔
دوسری طرف اس کھلے راز سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ’’پنڈت جواہر لعل نہرو‘‘ اور وزیر داخلہ ’’سردار ولب بھائی پٹیل‘‘ نے اعلانیہ طور پر اس مکروہ عزم کا اظہار کیا تھا کہ’’ ہم (بھارت) نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی مدد سے جس انداز میں پاکستان کی تشکیل کی ہے ، اس کے پیشِ نظر اس بات کی قوی امید ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو چار برس کے اندر یہ ملک اپنی منطقی انجام (خدانخواستہ) تک پہنچ جائے گا اور گھٹنوں کے بل واپس اکھنڈ بھارت کا حصہ بننے پر مجبوراً آمادہ ہو گا‘‘ ۔
سنجیدہ مبصرین کا کہنا ہے کہ نہرو اور پٹیل کی یہ پیشین گوئیاں اُن حالات میں اتنی غلط بھی نہ تھیں ۔ تبھی تو قیامِ پاکستان کے اوائل ہی میں ایک جانب دہلی سرکار نے برطانیہ کی ملی بھگت سے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ علاوہ ازیں جونا گڑھ ، مناور پر قبضہ کر لیا تو دوسری طرف قائداعظم کی وفات کے محض چند روز بعد ہی دکن حیدرآباد جیسی بڑی اور خوشحال ریاست کو بھی نام نہاد’’ پولیس ایکشن‘‘ کر کے اپنے زیرِ نگیں کر لیا ۔ اس تمام صورتحال کا سرسری سا بھی جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور گذشتہ ستر برسوں سے وطنِ عزیز کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔
تبھی تو ایک طرف ’’را‘‘ اور ’’این ڈی ایس‘‘ کی مکروہ کارستانیاں جاری ہیں اور سندھ، بلوچستان اور دیگر پاکستانی علاقوں میں ہر سطح پر پوشیدہ اور ظاہری دونوں طریقوں سے نت نئے ہتھ کنڈوں کا بھارتی سلسلہ جاری ہے ۔
اسی تمام تر تناظر میں نسبتاً اعتدال پسند حلقوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں تو شاید بحث کی جا سکتی ہو کہ وطنِ عزیز کا قیام مذہب کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا یا نہیں مگر اس حوالے سے بحث کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصب کو یقیناًہوا دی جا رہی ہے ۔
ایسے میں عیدِ آزادی کے موقع پر توقع کی جانی چاہیے کہ سبھی حلقے اپنی قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہر حوالے سے ایک بہتر پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں گے ۔

بارہ اگست کو روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا۔

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں )

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top