!خود آپ اپنے دام میں۔۔۔۔

پاک دفترِ خارجہ نے بھارتی سفیر”گوتم بمبا نوالہ“ کو طلب کرکے بھارتی کھلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے جواب طلبی کی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر شدید اشتعال انگیزی کی گئی جس کے نتیجے میں 2 جوان شہید ہوگئے جبکہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 3 بھارتی چوکیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ جنگی جنون میں پاگل بھارتی فورسز نے ایک بار پھر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے پونچھ اور بٹل سمیت مختلف سیکٹر زمیں بلا اشتعال گولہ باری کردی۔ اس دوران کنٹرول لائن کے اس پار شہری آبادی پر مارٹر گولے بھی فائر کئے گئے،گولہ باری کے نتیجے میں دو فوجی جوان شہید ہوگئے تاہم وطن کے محافظوں نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کی توپیں خاموش کرادیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے چوبیس گھنٹے میں دو بار شرانگیزی کی گئی،پہلے پونچھ سیکٹر کے علاقے سجیاں میں بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری ہوئی، پھر بھنڈالہ سیکٹر میں مارٹر گولے فائر کیے گئے۔ وادی لیپہ میں نوکوٹ اور وادی نیلم کے دودھنیال سیکٹر میں بھی بلا اشتعال گولہ باری کی گئی، مختلف سیکٹرز میں ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
اسی پس منظر میں پاک افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پا ک فوج دنیا میں سب سے زیادہ جنگی تجربات رکھتی ہے اور پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین جنگجو افواج میں ہوتا ہے جو بے خوفی سے خطرات کا مقابلہ کرنا جانتی ہے اور بھارت کو جارحیت کا جواب ہی نہیں بلکہ سزا بھی ملے گی۔
دوسری جانب وزیرا عظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر کھلی جارحیت کر رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج اپنی سرحدوں کا تحفظ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم ملکی خودمختاری کے خلاف جارحیت کا جواب دینا جانتے ہیں“۔انہوں نے اپنے اس موقف کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاک فوج سرحدوں کے تحفظ کیلئے مکمل تیار ہے اور پرامن ہمسائیگی کاتصور ہماری کمزور ی نہ سمجھا جائے۔ وزیر اعظم نے انتیس ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے وطن عزیر پر قربان ہونے والے 2فوجی جوانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔
علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گذشتہ رات انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے پانچ سیکٹرز میں چھوٹے ہتھیاروں کااستعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں دو پاکستانی فوجی شہید ہوئے ہیں۔ انڈیا کی اس بلا اشتعال فائرنگ کا پاکستانی افواج نے بھر پور جواب دیا اور اسی انداز میں جواب دیا جس انداز میں وہاں سے فائرنگ ہوئی۔ ان کے مطابق سرحد پار ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فی الحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ یہ انڈیا کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صرف اپنے میڈیا اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ بھی انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا۔
اسی پس منظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحد پر جارحیت کے بعد ڈی جی رینجرز پنجاب سمیت ہزاروں پاکستانی واہگہ بارڈ پر پرچم کشائی کی تقریب میں پہنچ گئے جبکہ بھارتی سائیڈ پر موت کی سی خاموشی چھائی رہی۔
ایل او سی پر ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستانی عوام نے بلند حوصلے کا مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔پرچم کشائی کی تقریب میں ڈی جی رینجرز پنجاب نے بھی شرکت کی اور انتہائی اگلی طرف بیٹھ کر پریڈ دیکھی۔ واہگہ بارڈر پر پریڈ کے دوران نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے رہے جبکہ پاکستانی عوام نے پاک فوج کے جوانوں سے بھرپور اظہار یکجہتی بھی کیا۔
دوسری جانب بھارتی فوجی اکیلے ہی بارڈر پر موجودتھے اور بھارتی کرسیاں خالی پڑی رہیں اور وہاں موت کی سی خاموشی چھائی رہی اور یوں پاکستانی قوم نے ایک بار پھر واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کرکے واضح کردیا ہے کہ یہ کسی کی گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور ان میں جذبہ شہادت کسی بھی دوسری قوم سے کہیں زیادہ ہے اور کبھی بھی وقت آیا تو یہ 1965 کی جنگ کی طرح پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے اور شہادت کی موت کو بخوشی گلے لگائیں گے۔
واضح رہے کہ نومبر 2014 میں واہگہ بارڈ ر پر خودکش حملے کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے۔ دھماکے کے اگلے روز بھارت کی جانب سے پھر بزدلی دکھائی گئی اور کوئی شہری پرچم کشائی کی تقریب میں شریک نہیں ہوا جبکہ پاکستانی عوام اور میڈیا نے پاک فوج کا خوب حوصلہ بڑھایا اور ریکارڈ تعداد میں تقریب میں شرکت کرکے دشمنوں کو واضح پیغام دے دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں جو ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ اور انشاء اللہ دشمن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے سے پہلے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

یکم اکتوبر کو روز نامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

 

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top