!حق خود ارادیت ، مودی اور ۔ ۔ ۔

یہ بات بھلا کون نہیں جانتا کہ افواجِ پاکستان اور پاک عوام کی تاریخ لازوال قربانیوں سے عبارت ہے ۔اسی پس منظر میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج نے 2016ء میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ پاکستان 2017ء میں امن واستحکام کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں گزشتہ سال 25620انٹیلی جنس بیس آپریشن کئے گئے جن میں مجموعی طور پر 3500 دہشتگرد ہلاک ہوئے ۔ عسکری ترجمان کے مطابق گزرے سال میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں پاک فوج کے 583 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 2108زخمی ہوئے ۔ علاوہ ازیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کراچی آپریشن میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف1992آپریشن کئے گئے جن میں 2847جرائم پیشہ افراد،446ٹارگٹ کلرز جبکہ 350دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، کراچی آپریشن کی وجہ سے شہر میں 91فیصد ٹارگٹ کلنگ جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 72فیصد کمی ہوئی ہے۔ دوسری جانب مودی نے گذشتہ سال کی آخری شام اکتیس دسمبر کو بھارتی عوام سے بیتالیس منٹ کا خطاب کیا ۔ اس دوران موصوف نے حسبِ سابق بھارت کی جھوٹی ترقی کے وہ تُو مار باندھے کہ الامان الحفیط ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ سال 2016 اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔ جب یہ سال شروع ہوا تھا تب تلک بھارت کے عوام کے دل میں بہت سی امیدوں کے پھول کھلے ہوئے تھے کیونکہ مودی کی سرکار سے ان کو امید ہی نہیں بلکہ یقین تھا کہ یہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کے مطابق عام شہریوں کی فلاح کے لئے کچھ کرے گی اور اس نے جو اچھے دنوں کے خواب دکھائے تھے ، ان خوابوں کو تعبیر ملے گی مگر یہ برس بھی بیت گیا بلکہ BJP کو اقتدار سنبھالے تو اکتیس مہینوں سے بھی زیادہ وقت ہو چکا ہے مگر عام لوگوں کے اچھے دن تو کیا آتے ، الٹا پہلے سے بھی حالات مزید خراب ہو گئے ہیں ۔ ایسے میں عام بھارتی حیران بھی ہے اور پریشان بھی کیونکہ وہ تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ BJP کے رہنما جو وعدے کر رہے ہیں ، وہ اٹل ہیں۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ BJP نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرکار بننے کی صورت میں تین مہینے کے اندر ہر شہری کے بینک کھاتے میں کم سے کم پندرہ لاکھ روپے جمع کروا دیئے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں تعلیم کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں لائی جائیں گی اور تعلیم کی سہولتیں سبھی شہریوں تک پہنچانے کا بندو بست کیا جائے گا ۔ مگر اب جب پچھلے تقریباً اکتیس مہینوں کی طرف بھارتی شہری اپنی نظر ڈالتے ہیں تو انھیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے اورُ ر فریب الفاظ کے ذریعے ان کا بری طرح استحصال کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ماہرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکام روزِ اول سے ہی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر جمع کرنے کی جانب اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہے ہیں اور انھیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود سے ذرا سی بھی دلچسپی نہیں ۔ اپنے اسی مکروہ طرز عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے نئے عیسوی سال 2017 کے آغاز سے محض چار روز پہلے بھارت نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل اگنی پنجم کا تجربہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق یہ تجربہ 26 دسمبر کو بھارتی ریاست اڑیسہ کے وھلیر جزائر سے کیا گیا ۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پانچ جنوری کو دنیا بھر میں یومِ ’’ حق خود ارادیت‘‘ کشمیر کے طور پر منایا جا تا ہے کیونکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ اس سے پہلے اگست 1948 میں بھی اسی ضمن میں ایک قرار داد منظور کی جا چکی ہے ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اگر عالمی برادری کی موثر قوتیں اور بھارتی حکمران تعمیری روش کا مظاہرہ کریں تو مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جا سکتا ہے ۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں کہ 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت کے بعد سے جس طرح بھارت نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور پیلٹ گنوں کے استعمال سے جس بڑے پیمانے پر کشمیریوں سے ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے وہ ایک کھلا راز ہے ۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کے ضمن میں مودی نے جس طرح کی اشتعال انگیزی پر مبنی روش روا رکھی ہے وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ دہلی کا حکمران طبقہ اپنے منفی عزائم ترک کر کے قدرے معقولیت کی راہ اپنائے گا اور عالمی برادری بھی اس حوالے سے اپنی دیرینہ بے حسی کو چھوڑ کر مثبت انسانی طرز عمل اپنائے گی تا کہ دنیا کے دیگر حصوں کی مانند جنوبی ایشیا ء میں جاری تناؤ کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

 

دو جنوری 2017 کو روز نامہ نوائے وقت میں شائع ہوا ۔

 

( مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دارنہیں )

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top