!بھارتی دعووں کی قلعی۔۔۔

چند روز قبل ہندوستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز ”لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ“ نے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کے نام پر جو گوہر افشانی کی، اس کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے کہا ہے کہ کسی بھی پیشہ وارانہ (خود ساختہ) فوج کے اتنے بڑے اور اہم عہدیدار کو کسی بھی صورت ایسی لغو بیانی زیب نہیں دیتی۔ خصوصاً جب اُسے اور اس کے ارد گرد موجود سبھی چھوٹے بڑے لوگوں کو بخوبی علم ہو کہ کی گئی بات سرے سے بے بنیاد اور جھوٹی ہے۔ یوں موصوف نے یہ مکروہ فریضہ انجام دے کر اپنی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب اسی پس منظر میں شمالی مہاراشٹر میں ”دُھلے شہر“ کے قریب چندو بابو چوہان کا گاؤں ”بور ویہر“ ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں زیادہ تر کسان ہیں۔ چندو کا بڑا بھائی ”بھوشن“ بھی فوج میں ہے اور گجرات میں تعینات ہے۔ چوہان خاندان سے تعلق رکھنے والے یوگیش پٹیل کے مطابق چندو بابو پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے۔ پٹیل کے مطابق اسے انڈین فوج کے دفتر سے فون آیا جس میں اسے بتایا گیا کہ چندو بابو پکڑا گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ چندو کے پکڑے جانے کی خبر سن کر اس کی نانی انتقال کر گئی۔ چندو کے گھر کے باہر افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ اور اس کی آخری رسومات چندو کے بڑے بھائی ”بھوشن“ کے آنے پر ادا کی جائیں گی۔ یوں خود بھارت کے ہندی اخبار نے اس بات کی پوری طرح تصدیق کر دی ہے کہ بھارتی فوج کا سپاہی پاکستانی تحویل میں ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ”بان کی مون“ نے بھارت کے نام نہاد پراپیگنڈے کی قلعی کھولتے ہوئے ان کے مبینہ سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کو پوری مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل او سی کی نگرانی پر تعینات یو این مبصرین کے مطابق بظاہر اس بھارتی دعوے میں سرے سے کوئی وزن نہیں کہ پاکستانی حدود کے اندر کسی قسم کا سرجیکل آپریشن ہوا ہے۔
بی بی سی ہندی نیوز کے مطابق اس معاملے کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے یو نائیٹڈ نیشن کے ترجمان ”سٹیفن ڈی“ نے کہا کہ ”ان بھارتی دعووں میں قطعاً کوئی صداقت نہیں کہ انڈین آرمی کے کسی فوجی دستے نے ایل او سی کے اس پار پاکستانی حدود کے اندر کسی قسم کا کوئی سرجیکل آپریشن کیا ہے“۔ یوں بھارت کے اس بے بنیاد پراپیگنڈے کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یوں تو ہمیشہ سے ہی دہلی کے حکمرانوں نے پاکستان کے خلاف نت نئی سازشوں کے جال بُنے ہیں مگر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے تو اس ضمن میں بھارت نے اپنے مکروہ عزائم کو کچھ اس طرح طشت ازبام کیا ہے کہ ہر ذی شعور پر دہلی کے عزائم پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔
اسی پس منظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد حالات نے کچھ ایسی تیزی سے پلٹا کھایا اور واقعات کی رفتار میں اس قدر سرعت سے اضافہ ہوا کہ خود بھارتی حکمرانوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس صورتحال پر کس طرح سے قابو پائیں کیونکہ گذشتہ تقریباً پونے تین ماہ میں صورتحال بھارت کے کنٹرول سے باہر ہوتی چلی گئی۔ ایسے میں دہلی کے مکار سازشی گروہ نے سازشوں کے نئے جال بُننے شروع کر دیئے اور اسی سلسلے میں ”اُڑی“ میں حالات کو ایسا رُخ دیا گیا جس کے نتیجے میں اٹھارہ بھارتی فوج ہلاک ہوئے اور اس کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر بے بنیاد پراپیگنڈے کا ایسا طوفان بد تمیزی کھڑا کیا جس میں وقتی طور پر ہر شے دھندلا کر رہ گئی۔
اس سارے بھارتی ڈرامے کا یہ مقصد تھا اور ہے کہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے ہٹائی جا سکے اور ساری صورتحال کا منہ موڑنے کی سعی کی جائے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ دہلی کے ان سازشی حلقوں کو اپنی اس ناپاک سعی میں ذرا سی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن ان بھارتی ریشہ دوانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے تین روز قبل بھارت نے لائن آف کنٹرول کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے در اندازی کی احمقانہ کوشش کی اور پاک فوج کے دو جوانوں کو شہید کر دیا مگر جب وطن عزیز کے فر زندوں نے انھیں منہ توڑ جواب دیا تو یہ عناصر پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ بد حواسی میں اپنے ساتھی ”چندو بابو“ کو اسلحے سمیت چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور بھارتی فوج کا یہ سپاہی اب پاکستان کی قید میں ہے۔ اور نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کرنے والی بھارتی فوج اپنے سپاہی کی واپسی کے لئے گڑ گڑا رہی ہے۔
سنجیدہ مبصرین نے اس صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستانی روش کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یوں تو پچھلے تقریباً ستر سال سے بھارتی حکمران اپنی انھی گھٹیا حرکتوں میں مصروف رہے ہیں۔ مگر پچھلے ڈھائی سال سے وہ کچھ زیادہ ہی پر پُرزہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تبھی تو پہلے مودی نے حکومت سنبھالتے ہی مہا راشٹر، ہریانہ اور جھار کھنڈ کے صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں شروع کر دی تھیں اور الیکشن جیتنے کے بعد ان میں قدرے کمی آئی اور پھر مقبوضہ کشمیر میں BJP نے کامیابی کے لئے پھر یہی اوچھا ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد جنوری 2015 کو دہلی سرکار نے کشتی ڈرامہ رچایا مگر خود ”لوشالی“ نام کے اعلیٰ بھارتی افسر نے اس کا بھانڈا پھوڑا تو دہلی کی یہ سازش بھی ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد میانمر میں سرجیکل سٹرائیک کے بے بنیاد دعوے کیے گئے جنھیں بعد میں خود بھارتی میڈیا نے بے نقاب کیا۔
علاوہ ازیں مودی نے اپنے دورہ ڈھاکہ کے دوران جس طرح مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارتی کردار کا فخریہ ذکر کیا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگست 2015 میں سرتاج عزیز نے اپنے مجوزہ دورہ بھارت کو بھی بھارتی ہٹ دھرمی کی بنا پر منسوخ کر دیا۔ پھر 2016 کے اوائل میں پٹھان کوٹ معاملے میں بھی دہلی حکومت نے جس نا پسندیدہ روش کا مظاہرہ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں اس سے کافی پہلے مودی نے 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کی جو نسل کشی کی اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارت کا گھناؤنا کردار بھی بھارتی تاریخ پر ایک سیاہ دھبا ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے گذشتہ دنوں سے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا جو نیا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس سے دہلی کے عزائم بڑی حد تک واضح ہو جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ پاکستانی فنکاروں کے خلاف بھارت میں جو جنونی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور انھیں جس ہتک آمیز طریقے سے پاکستان واپس جانے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے اس سے ایک جانب خود پاکستان فنکاروں کے لئے عبرت کا بہت سامان ہے اور انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ صرف پیسے اور ذاتی مفاد کے علاوہ قومی غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
مگر اس کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ یہ امر خاصا حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کی بھاری اکثریت نے قومی حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی فلموں، ڈراموں کی نمائش پر رضا کارانہ طور پر پابندی لگا دی ہے اور بھارتی میڈیا کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنے اس عہد کی تجدید کی ہے کہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا ہر سطح پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا بلکہ دہلی کے جنونی حکمرانوں کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنی شیطانی روش سے باز آ جائیں ورنہ تاریخ انھیں پچھتانے کا موقع بھی نہیں دے گی اور یہ شعر عملی صورتحال اختیار کر لے گا کہ
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے، ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں
اگرچہ یہ شعر کسی دوسرے موقع محل کی مناسبت سے کہا گیا تھا مگر یہ موجودہ صورتحال کے عین مطابق ہے۔

تین اکتوبر کو روز نامہ نوائے وقت میں شائع ہوا۔

(مندرجہ بالا تحریر مصنف کے ذاتی خیالات ہیں جن کے لئے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ ذمہ دار نہیں)

Tags:

About the Author

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top